گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالے کو اور الٹا دعوائے رسائی ہے
از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
بحر
ہزج مثمن اخرب سالم
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن

1
486

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں