تُجھے پُکارا ہے بے ارادہ
جو دل دُکھا ہے بہت زیادہ
نَدیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عَطا کرو اِک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
485
وہ در کھلا میرے غمکدے کا​
وہ آ گئے میرے ملنے والے​
وہ آگئی شام، اپنی راہوں
میں فرشِ افسردگی بچھانے​
وہ آگئی رات چاند تاروں
کو اپنی آزردگی سنانے​

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
101
خبر نہیں تم کہاں ہو یارو
ہماری اُفتادِ روز و شب کی
تمہیں خبر مِل سکی کہ تم بھی
رہینِ دستِ خزاں ہو یارو
دِنوں میں تفرِیق مِٹ چُکی ہے
کہ وقت سے خُوش گُماں ہو یارو

مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
396