ممکن نہیں ہے نے نہ رَہے نے ستاں رہے
ممکن نہیں تو راہ رَوِ عاشقاں رہے
جب تک کٹے نہ شاخ سے ناپائیدار ہے
کٹ کر گرے تو مرکزِ ہر دوستاں رہے
رومی نے راز مجھ پہ عیاں اس طرح کِیا
جو صورتِ مکاں سے کٹے لامکاں رہے
سوزاں شکستہ دل ہو جگر تار تار ہو
ممکن ہے نے نوا کے بنا خوش گماں رہے
اتنے طویل سَفر مصیبت کے بعد بھی
ھُو کے بغیر نے نہ کبھی ہم زباں رہے
ضو آفتاب ہفت جہاں جس کے دم سے ہے
ہر ذَرّہِ وجود میں وہ ضوفشاں رہے
وہ مُعبَد و حرم نہ کلیسا نواز ہے
ممکن نہیں وہ قید اسی آستاں رہے
ممکن نہیں پِرَاہنِ یک مشت خاک ہو
ممکن نہیں کہ راز ازل امتحاں رہے
ممکن نہیں کہ عقل میں اس کا وجود ہو
ممکن نہیں کہ عشق میں وہ بیکراں رہے

0
3