تیرے غم نے ہمیں بھی رلایا بہت
دوستوں نے ہمیں بھی ستایا بہت
اس نے پھر بھی اسی سے گلہ کر دیا
میں نے دل کو تو تھا آزمایا بہت
اب تو آنسو بھی ہنس کر نکل جاتے ہیں
ہم نے ہر داغ کو ہے سجایا بہت
جب بجھے وہ تو احساس آیا ہمیں
اِن چراغوں کو ہم نے جلایا بہت
اب تو رستے بھی سنتے ہیں دل کی صدا
ہم نے تنہائ میں گنگنایا بہت
اپنے زخموں سے پردا ہے اٹھ ہی گیا
داغ دل ہم نے پر تھا چھپایا بہت
اب تو فیصلؔ غموں سے بھی یارانہ ہے
ہم نے ان سے ہے رشتہ نبھایا بہت

0
16