۱۔ مطلع (تجلیِ یار)
ٹھنڈک ہے نورِ یار کی، جلنے لگا ہوں میں
سرچشمہءِ وصال میں ڈھلنے لگا ہوں میں
۲۔ رفعِ حجاب (سرورِ دید)
دلبر! ہوا کا جھونکا ہٹانے لگا حجاب
پردے کے اس سرور میں چلنے لگا ہوں میں
۳۔ سوزِ دروں (گدازِ عشق)
اک سوز ہے کہ رگ میں اترتا چلا گیا
آتش بنی ہے عشق تو، گھلنے لگا ہوں میں
۴۔ فنا و بقا (نورِ مٹنا)
اب میں نہیں رہا ہوں، مری ہستی مٹ گئی
اُس کے کرم سے خلد میں پلنے لگا ہوں میں
۵۔ سکونِ ابد (انکشافِ ذات)
یادِ حبیب دل کو سکونِ ابد بنی
تاریکیِ حصار سے کھلنے لگا ہوں میں
۶۔ حسنِ جمال (نکھارِ زخم)
اک جلوہءِ جمال نے بخشی ہے زندگی
زخموں کو چوم کر ہی نکھرنے لگا ہوں میں
۷۔ کرنِ نور (استقامتِ ذات)
اک آس ہے کہ ذات میں جگمگ ہے نور کی
ہر سمت اس کرن سے سنبھلنے لگا ہوں میں
۸۔ بزمِ جاوداں (سیرِ روحانی)
یادِ حبیب ہی سے مرا دل سکون میں ہے
بزمِ جاوید میں ٹہلنے لگا ہوں میں
۹۔ مقطع (حرفِ آخر)
خاکیؔ پکارتا ہے اسے شوقِ بندگی
اب عجز کے لباس میں ڈھلنے لگا ہوں میں

0
1