لب پہ آہیں ہیں، دل اشکوں بھرا پایا ہے
عشق کی راہ میں جینے کا مزہ پایا ہے
اشک پلکوں پہ تری یادوں کو سجانے لگے ہیں
زخمِ دل میں بھی ترا عکس چھپا پایا ہے
چاندنی رات میں دل کو بڑا تنہا پایا
خود کو ہر سو تری الفت سے بھرا پایا ہے
جب سے آئے ہیں مری آنکھوں میں خوابِ دید
سانسوں نے محبت کی خوشبو کو جدا پایا ہے
عشق کی راہ میں کانٹے بھی گلے ملنے لگے
ہم نے ہر درد کو سینے سے لگا پایا ہے
تیری تحریر کا اک حرف نہ مٹنے پایا
اس یقیں سے دلِ زار نے حوصلہ پایا ہے
اشک دامن سے دھوئے جب بھی ترے خاکیؔ نے
سجدۂ عشق میں بس لطفِ خدا پایا ہے

0
2