ہر طرف بازار میں نرخوں کا اک شور و فغاں ہے
آدمی کے بھاؤ لگنے کا سرِ ماتھا گماں ہے
بات جب بھی حق کی بولے کوئی سچّا آدمی تو
پوچھتے ہیں لوگ کس کا اور کہاں سے یہ بیاں ہے؟
دست و پا کو گرچہ بخشا ہے ہنر تعلیم نے بھی
دل اگر خالی ہے حق سے، پھر یہ کیسا اک جہاں ہے؟
عدل کی دہلیز پر جو شخص فاقوں مر رہا ہے
اُس کے حق سے دور قانونِ جہاں کا سائباں ہے
صفحۂ اخبار پر کل تھا کسی مظلوم کا غم
آج پھر اس کی جگہ پر اک نئی ہی داستاں ہے
ظلم پر ہم شور کر کے لوٹ آتے ہیں گھروں کو
ہر عمل میں بس مفاداتِ نفس کا امتحاں ہے
کون سچ کے واسطے اپنا کرے نقصان اب تو؟
وقت کے ہاتھوں میں ان جھوٹے وکیلوں کی زباں ہے
رزق کی خاطر نہ بیچے آدمی سچ اور غیرت
دورِ حاضر میں یہ خود داری کا پہلا امتحاں ہے
حرف میں سچائی کی چاہت اگر ہمرازؔ ہے تو
پہلے اپنے ہی عمل کا جائزہ لینا یہاں ہے

0
5