| تو اپنی خطاؤں کی فقط ایسے دوا کر |
| آقا کے وسیلے سے تو اللہ سے دعا کر |
| مطلوب اگر تجھ کو بھی دیدار ہے ان کا |
| بس صّلِ علٰی صلِّ علیٰ روز پڑھا کر |
| اس شہر میں سانسوں کی بھی آواز نہ آئے |
| چلنا ہے مدینے میں تو نظروں کو جھکا کر |
| اخلاص اگر اشک ِ ندامت میں گھلا ہو |
| رکھ دیتا ہے قطرہ بھی گناہوں کو مٹا کر |
| سرکار کا دربار ہے مانگو جو ہو دل میں |
| عزت نہیں جاتی یہاں دامن کو بچھا کر |
| نادان! محیط ان کی سماعت ہے جہاں پر |
| سن لیں گے تری بات ذرا دل سے صدا کر |
| بے نور نگاہیں تری ہو جائیں گی روشن |
| رکھ ، ذرے مدینے کے تو پلکوں پہ سجاکر |
| سرکار کی سیرت سے یہی درس ملا ہے |
| ہر حال میں ہر شخص سے ہرآن بھلا کر |
| لقمان ، تخیل کی اگر چاہیے رفعت |
| سرکارِ دوعالم کے خیالوں میں رہا کر |
معلومات