تیرے قلم کی اس طاقت سے کتنے عزائم ہیں وابستہ،
اب ہر وقت کمربستہ رہ، پر تاثیر ہے یہ سیدھا رستہ۔
آسانی سے مقام نہیں ملتا جب شوقِ جُہد ہو پیدا،
منزل کی سمت میں بڑھتا ہے قدم آہستہ آہستہ، دانستہ۔
قربِ ذاتِ الٰہی کی خاطر تو سرنگوں ہو جا اے خاکی،
چشمِ کرم شبستانِ ہستی پر رہتا ہے پیوستہ۔
دل آسودہ ہو ،ایسی محبت کر، سچ جانو قدم تو جما چل۔
پھر الفت کے صحیفوں میں تیرا نام ملے شامل، شائستہ۔
اب اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دکھا، غیرت کا پیکر بن جا،
اپنے کل کے سفر کی تیاری کر، وقت ہے خستہ ہی خستہ۔
حیرت ہے صد بار کہیں پر بھی میرا دل لگتا نہیں ہے،
رنگِ الفت کو سجاؤ، ہو دل میں تیرا نام شگفتہ۔
میرے دوستو اب اس خام خیالی کو اپنے دل سے نکالو
گردشِ دوراں ہے تو کیا، عزم تو رکھو جیتو ہو کے شکستہ۔
ہر اک زخمِ نہاں دل میں لئے پھر بھی مسافر ہنستا پھرتا،
یہ قافلۂ جاں کس کس وادی سے گزرتا ہے آہستہ آہستہ۔
ہر اک شے میں جھلک آتی ہے اُس حسن قدیم کی خاکی،
کیا دل کو سکوں ملتا ہے جب یاد وہ آتا ہے، یک بستہ۔
✍️ شاعر: عمران جیلانی (خاکی)

0
2