ایک غزل (29 مارچ 2024) کُچھ ترمیم و اِضافہ کے ساتھ۔ از: مُصطفےٰ سجاد حیدر،
حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
آدمی نے آدمی کو ہے گرایا بار ہا
چاہِ یوُسف نے ہمیں قصہ سنایا با ر ہا
بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو بھی بھاتی بہت
دِل تو گو ہم نے لگایا پر ہٹایا بار ہا !!!!!!!
وقت اُس کا قیمتی ہے کہہ گیا جاتے ہوئے
جا کے وہ واپس نہ آیا اور رُلایا بار ہا!!!!
دل دیا ہے وہ بھی تُجھ کو، مان یہ احسان ہے
یہ بیاں اس نے دیا ہے اور جتایا بار ہا!!! !!
روئوں یا چلائوں یا سر مار دوُں دیوار میں
ان پہ یہ سب بے اثر ہے،کر دکھایا بار ہا
لڑ پڑا انگوُر مجھ سے گھوُنٹ اِک جو پی لیا
بولا ہے بیٹی مری تو نے ستایا بار ہا!!!!!
تُم تو کہتے تھے کہ دو گے دل بہت تم سوچ کر
دُخترِ انگوُر نے تُجھ کو گھمایا بار ہا!!!!!!
روُٹھا ہے حیدر اگر تو فکر کی کیا بات ہے
چٹکیوں میں اُس کو ہم نے ہے منایا بار ہا

0
22