پھول کِھل جاتے ہیں تیرے ہی چلے آنے سے
پوچھتا رہتا ہوں اکثر یہی ویرانے سے
​تیری خوشبو مرے احساس پہ یوں چھاتی ہے
جیسے خوشبو کوئی اٹھے کسی مے خانے سے
​چاند بھی جھانک کے کھڑکی سے یہ کہتا ہے مجھے
رات روشن ہے تری زلف کے لہرانے سے
​عمر بھر تیرے تصور نے سہارا بخشا
ورنہ گھبرا گیا تھا دل مِرا ویرانے سے
​جل بجھے شمع کی صورت تو یہ معلوم ہوا
کم نہیں ہے مِرا غم بھی کسی پروانے سے
​اب بھی خالدؔ تری یادوں کی تپش باقی ہے
نور اٹھتا ہے مرے دل کے ہی کاشانے سے

0
9