| ممکن نہیں ہے نے نہ رَہے نے ستاں رہے |
| ممکن نہیں تو راہ رَوِ عاشقاں رہے |
| جب تک کٹے نہ شاخ سے ناپائیدار ہے |
| کٹ کر گرے تو مرکزِ ہر دوستاں رہے |
| رومی نے راز مجھ پہ عیاں اس طرح کِیا |
| جو صورتِ مکاں سے کٹے لامکاں رہے |
| سوزاں شکستہ دل ہو جگر تار تار ہو |
| ممکن ہے نے نوا کے بنا خوش گماں رہے |
| اتنے طویل سَفر مصیبت کے بعد بھی |
| ھُو کے بغیر نے نہ کبھی ہم زباں رہے |
| ضو آفتاب ہفت جہاں جس کے دم سے ہے |
| ہر ذَرّہِ وجود میں وہ ضوفشاں رہے |
| وہ مُعبَد و حرم نہ کلیسا نواز ہے |
| ممکن نہیں وہ قید اسی آستاں رہے |
| ممکن نہیں پِرَاہنِ یک مشت خاک ہو |
| ممکن نہیں کہ راز ازل امتحاں رہے |
| ممکن نہیں کہ عقل میں اس کا وجود ہو |
| ممکن نہیں کہ عشق میں وہ بیکراں رہے |
معلومات