تضمین:- مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو
کلام:- الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
مَظْہَرِ نُورِ خُدا ہو
مَرْکَزِ دَورِ ہُدٰی ہو
مِحْوَرِ اَرْضُ و سَما ہو
مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو
مالِکِ ہر ما سِوا ہو
خَالِقِ کُل کی رضا ہو
جَوہَرِ کَنْزِ خِفَا ہو
خَلْقْ میں سب سے جُدا ہو
کوئی کیا جانے کہ کیا ہو
عَقْلِ عَالَم سے وَرَا ہو
نِعْمَتِ رَبِّ مِلَل میں
کَنْزِ حُسْنِ بے بَدَل میں
کَہْفِ کَنْزِ لَمْ یَزَل میں
کَنْزِ مَکْتُومِ اَزَل میں
درِّ مَکْنُونِ خُدا ہو
سب ہیں حاضِر ، تم ہو ناظِر
تُم ہو ناہِی ، تُم ہو آمِر
تُم ہو باطِن ، تُم ہو ظاہِر
سب سے اَوَّل ، سب سے آخِر
ابْتِدَا ہو ، اِنْتِہا ہو
سب سے اَجْلٰی و جَلی تُم
سب سے اَخْفٰی و خَفِی تُم
سب کے مولٰی و وَلِی تُم
تھے وَسِیلے سب ، نَبی تُم
اَصْلِ مَقْصُودِ ہُدٰی ہو
سب صَدائے ذِکْرِ ہُو تھے
راہِ حَق میں کُو بہ کُو تھے
نُورِ حَق کے رُو بَرُو تھے
پاک کرنے کو وُضُو تھے
تم نَمازِ جاں فِزَا ہو
رَہْنُمائے اِین و آں تھے
زِینَتِ کَون و مَکَاں تھے
چَشْمَۂِ نُورِ عَیَاں تھے
سب بَشَارت کی اَذاں تھے
تُم اَذاں کا مدعا ہو
اَنْبِیَا سب مُعْتَبَر تھے
حُسْن میں رَشْکِ قَمَر تھے
سب کے سب اَہْلِ نَظَر تھے
سب تمہاری ہی خَبَر تھے
تم مُؤَخَّر مُبْتَدا ہو
سب خدا کی رَحْمَتِیں تھے
ضَرْبِ حَق کی نَوبتیں تھے
نَبْضِ دِیں کی دَھڑکنیں تھے
قُرْبِ حَق کی مَنْزِلِیں تھے
تم سَفَر کا مُنْتَہیٰ ہو
دے گَوَاہی آپ کی رَب
آپ ہی ہیں آخری اَب
تاکہ حَامی پہلے ہوں سَب
قَبْلِ ذِکْر اِضْمَار کیا جَب
رُتْبَہ سَابِق آپ کا ہو
چین والا بَیْتِ ماوٰی
شان والا ، بَرْگِ سِدْرَہ
سب سے بالا ، عَرْشِ اَعْلیٰ
طُورِ مُوسیٰ چَرْخِ عِیسیٰ
کیا مُساوِیِ دَنیٰ ہو
سب زَماں کے سِلْسلے میں
سب مَکاں کے ہیں کَڑے میں
سب جَہاں کے قافلے میں
سب جِہَت کے دائِرے میں
شَش جِہَت سے تُم وَرا ہو
رہتے ہو تُم ہر جَہاں میں
مُعْطِی ہو تُم ہر زَماں میں
بَسْتے ہو تُم دِل و جاں میں
سب مَکاں تُم لامکاں میں
تَن ہیں تُم جانِ صَفا ہو
جس گلی میں تُم ہو بَسْتے
سب خَزَانے اُس میں سَسْتے
سب اُسی جانِب ہیں تَکْتے
سب تمہارے دَر کے رَسْتے
ایک تُم راہِ خُدا ہو
ہر شَرَف کے تُم ہو جامِع
ہر مَرَض کے تُم ہو دافِع
دَرْد میں ہوتے ہو نافِع
سب تمہارے آگے شافِع
تُم حُضُورِ کِبْرِیا ہو
رب سے کیسی شان پائی
مِلْک میں ساری خُدائی
اور جہاں سارا فِدائی
سب کی ہے تُم تک رَسائی
بارگَہ تک تُم رَسا ہو
وہ مِرا دِل کیسے دھڑکا
گُم ہوا ہرغَم کا کھٹکا
گُلْشَنِ دِل کیسا مَہکا
وہ کَلَس رَوضے کا چَمکا
سر جھکاؤ کَجْ کُلَاہو
جَانِ رَحْمَت مُسْکرائے
بَاغِ نِعْمَت لَہْلَہائے
آج وہ تَوڑے ہیں لائے
وہ دَرِ دَولت پہ آئے
جھولیاں پھیلاؤ شاہو
تضمین نگار:- ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی
17 ربیع الاول شریف 1448ھ / 31 اگست 2026ء بروز پیر
دن11 بج کر 1 منٹ

0
5