روشنی، رنگ، خوشبو کا آمیزہ ہے
اک سراپا سراپا دل آویزہ ہے
لا رہی ہے غضب خوشبو بادِ نسیم
دستِ نازک میں گل کے مگر نیزہ ہے
لوگ کہتے ہیں ساقی کا ہم دوش ہوں
ہاتھ میں ٹوٹے پیمانے کا ریزہ ہے

0
16