لبوں پہ نامِ الہی، نگاہ میں تسلیم
خلیلؑ چل پڑے لے کر وفا کا عزمِ عظیم
فضا بھی ساکت و خاموش، وقت بھی حیران
یہ کس مقام پہ پہنچا ہے عشق کا ایمان
نہ تخت و تاج کی خواہش، نہ آرزوئے جہاں
اسی نے مانگ لیا تھا دلِ پدر کا گماں
وہ ایک لختِ جگر جس پہ ناز تھا برسوں
اسی کو راہِ الٰہ میں لٹانے نکلے کیوں
پہاڑیوں نے سنا جب خلیلؑ کی وہ صدا
“مرے عزیز! یہی چاہتا ہے ربِّ ہدیٰ”
پسر نے جھک کے کہا: اے پدر! خوشی سے چلیں
اگر ہے حکمِ الٰہی تو دیر کیوں ہی کریں
اگر یہ راہِ محبت ہے، سر بھی حاضر ہے
یہ جسم کیا ہے؟ مری روح اس کی خاطر ہے
زمیں پہ سجدۂ تسلیم کی عجب شاں تھی
فلک کی آنکھ بھی منظر پہ کتنی حیراں تھی
چھری بھی کانپ رہی تھی، ہوا بھی تھم سی گئی
وفا کے سامنے اس کی رضا سہم سی گئی
وہاں سے آئی ندا: عشق کے امیں بندے!
قبول تیری اطاعت، قبول یہ سجدے
یہ خون مانگا تھا میں نے، یہ امتحاں تھا فقط
وفا کی راہ میں اخلاص کا نشاں تھا فقط
اسی لیے تو قیامت تلک یہ دن آئے
ہر ایک دل میں نئی روشنی، چمک لائے
جو اپنے نفس کی خواہش کو بھی ذبح کردے
وہی حقیقتِ قربانیاں صلح کردے
یہ داستاں ہے رقم آج بھی شریعت میں
ہمیں بھی حکم ہے چلنا اسی طریقت میں

0
2