| مثلِ شاخِ گُلاب مونا |
| شاعر کا کوئی خواب مونا |
| زُلفیں جیسے گھٹائیں کالی |
| اور چہرا ہے آفتاب مونا |
| ہر نقش میں رنگ ہیں بھرے یوں |
| رنگوں سے لکھی کتاب مونا |
| مدہوش ہیں دیکھ کر اِنہیں ہم |
| آنکھیں تری ہیں شراب مونا |
| سن پائوں نہ دیکھ پائوں تجھ کو |
| اب ضبط ہوا بے تاب مونا |
| زاہد نے جس کو سایہ سمجھا |
| وہ تم ہو کہ ہے سراب مونا |
معلومات