جب نام نہ ہوگا تو بدنام کیا ہونگے
ا س ٹوٹے ہوئے دل کے بھلا دام کیا ہونگے
نا کوئی تمنا ہے نہ کوئ ہےارا دہ
بیٹھے رہے گھر میں تو پھر بھلا کام کیا ہونگے
آ تےتو ہیں روز مگراٹھاتے نہیں نقاب
جب ابتدا ہے ایسی انجام کیا ہونگے
ان کو نہ بتانامرے میخانہ کا پتا
ساغرنا رہے گا وہاں کوئی جام بھی نا ہونگے
وہ ہی جانیں ہم کہاں تک سہیں گے ان کے یہ ستم
اس آگ میں جلنے کےانعام کیا ہونگے
جو زخم بھی ملتے ہیں وہ تحفے سے لگتے ہیں
ہم ہنس کے اٹھائیں گے، تو آلام کیا ہونگے
یہ سب ہو نے نا ہو نے کا ہی تو بس ہے کمال
قاسم نہ رہےگا تو پھر الزام کیا ہونگے

55