| جب نام نہ ہوگا تو بدنام کیا ہونگے |
| ا س ٹوٹے ہوئے دل کے بھلا دام کیا ہونگے |
| نا کوئی تمنا ہے نہ کوئ ہےارا دہ |
| بیٹھے رہے گھر میں تو پھر بھلا کام کیا ہونگے |
| آ تےتو ہیں روز مگراٹھاتے نہیں نقاب |
| جب ابتدا ہے ایسی انجام کیا ہونگے |
| ان کو نہ بتانامرے میخانہ کا پتا |
| ساغرنا رہے گا وہاں کوئی جام بھی نا ہونگے |
| وہ ہی جانیں ہم کہاں تک سہیں گے ان کے یہ ستم |
| اس آگ میں جلنے کےانعام کیا ہونگے |
| جو زخم بھی ملتے ہیں وہ تحفے سے لگتے ہیں |
| ہم ہنس کے اٹھائیں گے، تو آلام کیا ہونگے |
| یہ سب ہو نے نا ہو نے کا ہی تو بس ہے کمال |
| قاسم نہ رہےگا تو پھر الزام کیا ہونگے |
معلومات