| تیری یادوں کے سلسلے نے مجھے |
| ہر گھڑی باکمال رکھا ہے |
| ناز و انداز کو تمہارے سب |
| اپنے شعروں میں ڈھال رکھا ہے |
| تیری چاہت کا میں ہوں دیوانہ |
| دل میں شوقِ وصال رکھا ہے |
| اپنے بچوں کی زندگی کے لیے |
| کھانا میں نے حلال رکھا ہے |
| چاہے جتنی ترقی کرلیں ہم |
| بعد میں پھر زوال رکھا ہے |
| اپنے ماں باپ کا سہارا ہوں |
| رب نے بھی خوش خصال رکھا ہے |
| زندگی کٹ رہی ہے بس ایسے |
| خود کو کتنا سنبھال رکھا ہے |
| یاد تیری بھی آتی رہتی ہے |
| غمِ دنیا بھی پال رکھا ہے |
| میری مسکان پہ نہ جانا تم |
| دل میں رنج و ملال رکھا ہے |
| تیرے افکار کو بدل ڈالیں |
| ایسے ایسے سوال رکھا ہے |
| میں بظاھر میں لگ رہا خاموش |
| حوصلوں میں ابال رکھا ہے |
| آسماں میں کوئی ستارہ ہے |
| اس لیے یہ اچھال رکھا ہے |
| پوچھنا تھا وہی سوال آخر |
| کیا دوبارہ وصال رکھا ہے؟ |
| تیری جنت بنانے کی خاطر |
| ”خود کو گھر سے نکال رکھا ہے“ |
| یہ مبارکؔ کا ہے کمال انجمؔ |
| شعر میں بھی خیال رکھا ہے |
معلومات