تیری محفل میں ہم رہ گئے ہیں
ہوتے ہوتے کرم رہ گئے ہیں
دل پہ نقشِ قدم رہ گئے ہیں
لاکھ ہو کر بھی کم رہ گئے ہیں
میرے دل میں ابھی کچھ جگہ ہے
تیرے جیسے صنم رہ گئے ہیں
جب صبا تیرے در کو چلی تب
یہ نہ دیکھا کہ ہم رہ گئے ہیں
عاشقوں کی کہاں اب جگہ ہے
صرف اہلِ حرم رہ گئے ہیں
اس کی آنکھوں پہ لکھنا تھا لیکن
چلتے چلتے قلم رہ گئے ہیں
شکریہ تیرا بنتا ہے اب تو
کچھ ہمارے بھرم رہ گئے ہیں
رات تھے اپنے دل میں بھی شکوے
صبح ہوتے ہی کم رہ گئے ہیں
تم بھی آجاؤ واپس کہ اب تو
آخری میرے دم رہ گئے ہیں
جب زمانہ ہوا ہے خفا تو
یاد کرنے کو ہم رہ گئے ہیں
اپنا سر سامنے ہے بچھایا
آپ کے کچھ ستم رہ گئے ہیں
ہم سجا کر گئے تیری زلفیں
باقی پھر کیسے خم رہ گئے ہیں
مے کدے میں جوانی ہے گزری
ہو کے ہم تو عدم رہ گئے ہیں
دیکھ فیصلؔ تری جو ہے قسمت
اب فقط اس میں غم رہ گئے ہیں

0
30