| اس کیفِ عالم میں چل رہی ہیں اب تو سارے جہاں کی باتیں |
| اب موسموں سے بھی ہیں گِلے بہار رُت میں خزاں کی باتیں |
| کہاں رہی ہے دلوں میں اب وہ سالوں پہلے سی مجازی |
| زباں پہ سب کے ہے خود پرستی اب اِس کی باتیں کل اُس کی باتیں |
| ہیں عیب سب میں یہ بات سچ ہے نظر تو آتے سبھی ہیں اچھے |
| بنے ہوئے ہیں یوں مثلِ پیکر زباں پہ بس ہیں گناہ کی باتیں |
| جہاں کہیں ہے دلوں میں لزّت وہی پہ آنچل بھڑک رہے ہیں |
| نرم لحجوں سے بولتے ہیں پر دل میں رکھے حوس کی باتیں |
| مقام اپنا بنا کہ رکھنے کی سب میں چاہت اُبھر رہی ہے |
| گِرا کہ مسجد بنا کہ منزل یہ کر رہے ہیں کہاں کی باتیں |
| جُھکے ہوؤں کو اور نیچا جُھکا کہ رکھنا یہاں کا فن ہے |
| ظلم ہے پر نہ کوئی ظالم کسے بتائیں ہم کِس کی باتیں؟ |
| یہ فانی دنیا میں ڈھونڈنے سے ملے گا تُجھ کو کیا رحمانیۧ؟ |
| ہزار باتیں اِدھر اُدھر کی ہیں بس نہی تو خُدا کی باتیں |
معلومات