مستند اہلِ نظر میں ہے مری بات قبول
دستِ قدرت سے مجھے دیدۂ بینا ہے نصیب
تم کو تاریخ امم کیا نہیں بتلاتی ہے؟
قوم کے حق میں دوا بھی ہے زہر بھی ہے خطیب
آپ کی شان میں اب اور بھلا کیا کہیے؟
دو ہی پیسے میں یہ بک جاتے ہیں اتنے ہیں غریب
ملحدوں سے گو ملیں خوب گرم جوشی سے
اہلِ اسلام کو یک لخت بتاتے ہیں رقیب
کبھی مشرق کے بتوں سے نہیں ہٹتی ہے نگاہ
گاہ یہ مغربی آقاؤں کو رکھتے ہیں حبیب
دیں کو کہتے ہیں سیاست سے معارض ہے بہت
اور پھر اہلِ سیاست سے بھی رہتے ہیں قریب
مجھ سا آشفتہ نظر کیسے نہ حیران رہے؟
کہ قلندر کی نگہہ بھی جنہیں کہتی ہے عجیب
نہیں معلوم کھلائیں گے بھلا کیا کیا گل؟
قومِ بیمار کے حق میں یہ خطرناک طبیب
خود ہی تخریبِ نشیمن میں یہ رہتے ہیں مگن
خود کو بتلاتے ہیں معمارِ جہاں، قومی نقیب
جن کے ہاتھوں ہوا اسلام بے چارہ محبوس
ابنِ مریم کی طرح قوم کو دیتے ہیں صلیب
ثانی بے چارہ کسی کام کا اب ہے ہی نہیں
کشتیِ عشق بھنور میں ہے تو پھوٹا ہے نصیب

892