میرے خداۓ بزرگ و برتر اب اس قابل بن تو سکوں ۔
دامن رحمت سے بھر جاۓ ایسا ساحل بن تو سکوں ۔
غفلت کی ہر نیند سے اب بیدار ہو جاؤں میں بھی ایسے۔
کرنے لگوں انصاف میں خود اب ایسا عادل بن تو سکوں۔
پھر تیری تمام عمر میں پرستش کرنے لگوں ایسے۔
میرے خدا ہو عطا اب ایسا جذبہ بادل بن تو سکوں۔
تیری عظمت میں کھو جاؤں کچھ اس طرح سے اب میں بھی ۔
تیری بڑائی بیان کروں اب ایسا کامل بن تو سکوں۔
پھر ہر صبح ہو شام ہو تیرا ذکر ہو عمر تمام یہ ہو۔
ایسا کرم تو اپنا کر اک سچا عامل بن تو سکوں۔

0
52