شاید کبھی یہ دل بھی مچل جائے، سنبھل جائے
ہر زخمِ کہن پھر سے کسی پل میں ابھر آئے
ہر سمت دھواں، ہر طرف اک شورِ سا بے معنی
خاموشی میں بیٹھوں تو ترا چہرہ اُبھر آئے
کب تک میں بھٹکتا رہو ں گا شہر کے رستوں پر
اک موڑ پہ بیٹھا ہوں شاید کوئی آ جائے
ان کا ہی ستم ہم نےبھی کم تو نہیں دیکھا
وہ کون ہے جو خود سے بچا، خود ہی نکل آ ئے
کچھ لوگ تو لمحوں میں مل جاتے ہیں، لیکن وہ
اک شخص ہے ایسا کہ جو صدیوں میں کبھی آئے
قاسم کی طرح ہم بھی سادہ ہیں مگر یارو
کب کس کی نظر میں کون سا پردہ اُتر آئے

11