| شاید کبھی یہ دل بھی مچل جائے، سنبھل جائے |
| ہر زخمِ کہن پھر سے کسی پل میں ابھر آئے |
| ہر سمت دھواں، ہر طرف اک شورِ سا بے معنی |
| خاموشی میں بیٹھوں تو ترا چہرہ اُبھر آئے |
| کب تک میں بھٹکتا رہو ں گا شہر کے رستوں پر |
| اک موڑ پہ بیٹھا ہوں شاید کوئی آ جائے |
| ان کا ہی ستم ہم نےبھی کم تو نہیں دیکھا |
| وہ کون ہے جو خود سے بچا، خود ہی نکل آ ئے |
| کچھ لوگ تو لمحوں میں مل جاتے ہیں، لیکن وہ |
| اک شخص ہے ایسا کہ جو صدیوں میں کبھی آئے |
| قاسم کی طرح ہم بھی سادہ ہیں مگر یارو |
| کب کس کی نظر میں کون سا پردہ اُتر آئے |
معلومات