| مجھ کو ضیائے معرفت جلوۂ آشکار کر |
| یا مری تیرہ خاک کو شعلۂ بے قرار کر |
| سجدۂ ناروا سے بچ، در پہ جھکا نہ اپنا سر |
| بندۂ حق بنا مجھے، حاکمِ روزگار کر |
| چھین لے عقلِ نارسا کا یہ فریب اور طلسم |
| قلب کو پھر سے محرمِ نغمۂ کوہسار کر |
| خواہشِ خسروی مٹا، لذتِ بندگی بڑھا |
| سنتِ مصطفیٰ کو اب زیست کا شاہکار کر |
| دہر کے سب خودی شکن بت کدے خاک میں ملا |
| ضربِ کلیم کی طرح حرف کو ذوالفقار کر |
| نانِ جویں کا ذائقہ شاہیِ کج کلاہ سے |
| برتر و خوب تر بنا، فقر کو استوار کر |
| علم جو بے عمل رہے، زہر ہے وہ حیات کا |
| فکر کو با عمل بنا، روح کو ہوشیار کر |
| گردشِ چرخِ کج روِیں توڑے نہ میرے پائے عزم |
| سنگِ حوادثِ جہاں موم پئے وقار کر |
| غیر کا در نہ دیکھنا، رزق کی جستجو میں بھی |
| اپنے ہی رب کی ذات پر تکیہ و اعتبار کر |
| حافظِ بے نوا کی تُو سن لے دعا بصد خلوص |
| پیکرِ خاکِ پست کو رشکِ ستارہ بار کر |
معلومات