اکیلے گھر میں روشن دان سے سورج جھلکتا ہے
اداسی آہ بھرتی ہے تو بام و در سسکتا ہے
لہو بہتا ہے پاؤں سے چمن ہیں کاٹیں اتنے ہیں
یہاں نا گل مہکتا ہے او نا بلبل چہکتا ہے
گھٹا ایسی امڈتی ہے ستارے ڈوب جاتے ہیں
تو برسوں کی سیاہی ختم کر دیپک دمکتا ہے
کسی ٹوٹے ہوئے تارے کی خواہش کون کرتا ہے
کہ ٹھنڈی چاندنی میں بھی وہ شعلہ سا دہکتا ہے
نظر آتی ہے رہ رہ کے کرن اممید کی اکثر
اندھیری رات میں جیسے کوئی جگنو چمکتا ہے
کنارے سے خفہ ہو کر ندی منہ موڑ لیتی ہے
مگر ساہل کے سینے میں ندی کا دل ڈھڑکتا ہے
کہیں چندن کہیں کیسر معطر ہے فضا ساری
یہ شفقت ہے بزرگوں کی جو میرا گھر مہکتا ہے

0
103