مطلع
بہار آنے سے پہلے بے زار دل تھا، اب غم گسار آئے
فگارِ جاں کو کوئی نہ سمجھا، نہ کوئی سوگوار آئے
اگرچہ نامہ ہی چارہ ہوتا، پیامِ قاصد کو دیتے ہم بھی
نہ خط سے ملتا سکونِ دل ہی، نہ دردِ جگر کو قرار آئے
بہار آئی، فضا مہکی، گلوں کی خوشبو نسیمِ صبا سے
چمن میں مہکے ہیں پھول ایسے، ہر سو کھلے لالہ زار آئے
یہ نرم و نازک سے پھول ہیں جو، چھوا تو لمسِ ہوا سے بکھرے
ملی کسی کو بہارِ گلشن، مری طرف صرف خار آئے
ہزار رستے سفر میں طے کر، جو لوٹے ہم دل شکستہ ہو کر
کہاں یہ کشتیِ جاں ٹھہرتی، جدھر سے موجِ بہار آئے
کریں نہ کیوں رشک لوگ مجھ پر، دکھوں کو مسکان میں چھپایا
سجا کے دل کو ہتھیلیوں پر، جاں مٹھی میں کر نثار آئے
قرار بخشا ہے دوسروں کو، ہمیں ملا انتظارِ یار
اسی میں جان و دل لٹا کر، ہم عشق میں خود نثار آئے
صدا یہ دل سے اٹھی کہ ہرگز، وفا کے پیکر سے بیر کیسا
ہوئے ہیں اس درجہ ہم بھی ششدر، کہ جیسے خود بادہ خوار آئے
ابرِ کرم سے زمیں معطر، نسیم سے باغ بھی ہے روشن
تری ہی آنکھوں کی مستی ہے یہ، پئے بنا ہی خمار آئے
پلے جو ظلمت کے سائے میں وہ، وفا کے معنی کہاں سمجھیں
دریچۂ فکر جب بھی کھولا، تو ذہن میں سو غبار آئے
یہ دشتِ دل ہے زمیںِ الفت، نہیں ہے بنجر کوئی جزیرہ
چراغِ امید ہے فروزاں، یہاں تو خوابِ نگار آئے
کبھی جو نسبت ہوئی تھی الفت، وہ قصۂ جاں کہاں چھپاتے
نگاہ ملتے غبار چھٹتا، ہمیں عشق پر اعتبار آئے
یہ کشف لہجے کا، ہر طرف تھا عیاں ہوا تذکرہ تیرا
نگاہِ ساقی کا فیض ہے یہ، کہ باتوں میں نکھار آئے
مقطع
مزاجِ خاکی ہوا سے بدلا، بہار تیری عطا کی ندرت
فضا معطر ہوئی کہ جس سے، کرشمۂ روزگار آئے

0
93