بلک رہی ہے یہ دھرتی، پناہ خدا کی ہے
اکھڑ رہی ہیں یہ سانسیں، یہ لُو سزا کی ہے
تمام حلق ہیں سوکھے، تمام بے دم ہیں
ہوا کی جو یہ تپش ہے، وہ کربلا کی ہے
جلا رہی ہے یہ گرمی، سلگ رہا ہے بدن
شدت جو یہ ہوا میں ہے، کس بلا کی ہے
تڑپتی خلقِ خدا پر، کرم ہو اے مالک!
زمیں کو پیاس لگی ہے، طلب عطا کی ہے
یہ بوند بوند کو ترسے، چرند اور پرند
زبان تالو سے چپکی، کہ نا رسا کی ہے
بصارت اپنی ہی کھونے، لگی ہے آنکھ اب تو
یہ تند لُو جو چلی ہے، وہ بے ضیا کی ہے
لگی ہے آگ فضا میں، جھلس رہی ہے زمیں
دعا یہ خاکیؔ کی سن لے، کہ رُو جفا کی ہے

0