تیری آنکھوں کے چراغوں کا اثر آج بھی ہے
دل کے ویران دریچوں میں سحر آج بھی ہے
وہ جو اک لمس نے پتھر کو بھی دھڑکا دیا تھا
میرے احساس کے سینے میں سفر آج بھی ہے
تیری آواز کے جادو سے مہکتی ہے فضا
میرے کانوں میں وہی شیریں اثر آج بھی ہے
رات بھر چاند ترے ہجر میں جلتا ہی رہا
چاندنی پر ترے قدموں کا گزر آج بھی ہے
میں نے چاہا تھا بھلا دوں تجھے دنیا کی طرح
دل مگر عشق کے ہاتھوں میں اسیر آج بھی ہے
تیری خوشبو مرے اشعار میں ڈھل جاتی ہے
میری غزلوں میں ترے حسن کا گھر آج بھی ہے
تیری یادوں کے دریچوں سے اُترتی ہے ضیا
دل کے آنگن میں وہی نورِ نظر آج بھی ہے
کوئی پوچھے تو کہوں عشق عبادت ہے مری
یہ مرا شوق، مرا دردِ جگر آج بھی ہے

0
5