سب ہیں نشانے پہ سب کو تیر لگے گا
تیرا عدو تجھ کو تیرا پیر لگے گا
مانگو اللہ سے کہ دیگا وہ سب کچھ
دل کے خیالات میں ضمیر لگے گا
جنگجو لڑتے ہیں جنگ میں یوں تو لیکن
جس کو دعا نا لگی حقیر لگے گا
تجھ کو تو تھا شوق تجھ کو ملتی یوں دولت
زندگی روئے گی جب امیر لگے گا
قیس کے قصے سناتے ہیں بڑوں کو ہم
کہتے ہیں ایسے تو وہ فقیر لگے گا

56