| سجا ہے آنکھ پر جادو عجب نظاروں کا |
| حسین عکس ہے دریا میں چاند تاروں کا |
| سنائی دیتی ہے کلیوں کی مسکراہٹ بھی |
| عجب ہے شور گلستاں میں ان اشاروں کا |
| ہری قبائیں پہن کر کھڑے ہیں کوہ و دمن |
| بچھا ہے فرش زمیں پر حسیں بہاروں کا |
| صبائے گل کے یہ جھونکے سنا رہے ہیں غزل |
| چلا ہے دور فضاؤں میں نغمہ باروں کا |
| سکوتِ شب میں ستاروں کی لو یہ کہتی ہے |
| بنا ہے نور سے پیکر ان استعاروں کا |
| سحر کی پہلی کرن جب گلوں کو چھوتی ہے |
| امڈتا آتا ہے اک سیل مشک باروں کا |
| غمِ حیات کی تلخی بھی اب نہیں خالد |
| ملا ہے ساتھ ہمیں جب سے غم گساروں کا |
معلومات