| تصور میں جو وہ شہرِ تمنا لے کے بیٹھے ہیں |
| ہم اپنے گھر میں جنت کا نظارہ لے کے بیٹھے ہیں |
| خدایا! اب مدینے کی زیارت ہو ہی جائے گی؟ |
| زباں پر ہم سلامِ شوقِ طیبہ لے کے بیٹھے ہیں |
| وہی رحمت کا پیکر، ہادیِ اعظم، شہِ بطحا |
| جسے رب نے پکارا، ہم وہ رستہ لے کے بیٹھے ہیں |
| زمانے بھر کی خوشیاں ان کی چوکھٹ سے ملیں ہم کو |
| ہم ان کے در سے جینے کا سلیقہ لے کے بیٹھے ہیں |
| وہ مہرِ انور و تاباں، وہ نورِ عالم و دوراں |
| خیالوں میں اسی سورج کا ہالہ لے کے بیٹھے ہیں |
| گدائے مصطفیٰ کو تاجِ شاہی کی ضرورت کیا؟ |
| فقیرِ شہرِ ایماں، تخت و کاسہ لے کے بیٹھے ہیں |
| مدینے کے مسافر کی دعائیں رنگ لائیں گی |
| جو خالدؔ نعت کا اک استعارہ لے کے بیٹھے ہیں |
معلومات