تضمین:-
مُصْطَفٰی خَیْرُ الْوَرٰی ہو
----------------------------------
کلام:- امامِ اہلسنت اعلیٰحضرت الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
-----------------------------------
اَنبِیا کے مُقْتَدا ہو
خَلْق کے تُم پیشوا ہو
کَامِلوں کے رَہْنُمَا ہو
مُصْطَفٰی خَیْرُ الْوَرٰی ہو
سَرْوَرِ ہَر دَوسَرَا ہو
بس تُمہی سے ہے تعَلُّق
اور اسی میں ہے تَعَمُّق
غیر سے ہے بَس تَفَرُّق
اپنے اَچھَّوں کا تَصَدُّق
ہَم بَدوں کو بھی نِبَا ہو
ہر طَرَف ہی چھائے ہیں غَم
سَازِشِی بھی تو نَہیں کَم
بِن تُمہارے کَب ہے دَم خَم
کِس کے پِھر ہو کر رہیں ہَم
گَر تُمہیں ہَم کو نہ چاہو
بَدْ کریں عِصْیاں ہی ظاہِر
بَدْ رہیں نیکی سے قاصِر
بَدْ بنیں ہر دَم ہی فاتِر
بَدْ ہنسیں تُم اُن کی خاطِر
رات بھر روؤ کَرا ہو
بَدْ ہیں خواہِش کے فِدائی
زِندگی ایسے گنوائی
بس گُناہوں میں لگائی
بَدْ کریں ہَر دَم بُرائی
تُم کَہو اُن کا بھلا ہو
گرچہ دُشْمن چار سُو ہیں
تم سے ہم پُر آرزُو ہیں
تھام لو تو سرخ رُو ہیں
ہَم وُہی نا شُسْتَہ رُو ہیں
تُم وُہی بَحْرِ عَطا ہو
مَرْتبے میں پَسْت قَد ہیں
جُرْم میں بھی نام زَد ہیں
ہاں سَگِ در تا اَبَد ہیں
ہَم وُہی شَایانِ رَدْ ہیں
تُم وُہی شَانِ سَخَا ہو
بے ہُنَر ہیں ، نا بَلَد ہیں
ہر جگہ سے ہم تو رَد ہیں
عَاصیِٔ ربِِّ اَحَد ہیں
ہَم وُہی بے شَرْمُ و بَد ہیں
تُم وُہی کَانِ حَیا ہو
ہم وہی تو کَجْ اَدَا ہیں
اور سِیَہ رُو ، پُر خَطَا ہیں
تُم کُجَا اور ہَم کُجَا ہیں
ہَم وُہی نَنگِ جَفَا ہیں
تُم وُہی جانِ وَفَا ہو
ہَم نہیں قَابِل جَزَا کے
ہَم کہاں لائِق عَطَا کے
مُنْتَظِر پھر بھی سَخَا کے
ہَم وُہی قِابِل سَزَا کے
تُم وُہی رَحْمِ خُدا ہو
مُلْک بَدْلے ، شَہْر بَدْلے
شام بَدْلے ، سَحْر بَدْلے
لَہْر بَدْلے ، بَحْر بَدْلے
چَرْخ بَدْلے ، دَہْر بَدْلے
تُم بَدَلْنے سے وَرَا ہو
تُم جہاں بھی مَحْو آقا
رُخ ہماری نَحْو مَولا
اب نہیں ہو سَہْو شاہا
اب ہمیں ہو سَہْو حاشا
ایسی بھولوں سے جُدا ہو
ہر طَرَح آباد رکھا
ہر طَرَح سے شاد رکھا
کَب ہمیں ناشاد رکھا
عُمْر بھر تو یاد رکھا
وَقْت پر کیا بھولنا ہو
وَقْتِ پَیٔدائِش بھی بولے
اے خُدا ہے عَرْض تُجھ سے
بَخْش دے اُمَّت کَرَم سے
وَقْتِ پِیدائِش نہ بھولے
کَیْفَ یَنْسٰی کیوں قَضَا ہو
بات دل کی مَحْض کردوں
تیز دِل کی نَبْض کردوں
عَرْض شَاہِ اَرْض کردوں
یہ بھی مولٰی عَرْض کردوں
بھول اگر جاؤ تو کیا ہو
سب ہی تو تُم پر عَیَاں ہے
ہو وُہی جو بَارِ جاں ہے
رَب بھی چاہے یہ کہاں ہے
وہ ہو جو تُم پر گِراں ہے
وہ ہو جو ہرگِز نہ چاہو
سُن اگر انجام لیتے
سوچ کر دِل تھام لیتے
پھر کہاں آرام لیتے
وہ ہو جس کا نام لیتے
دُشْمنوں کا دِل بُرا ہو
ہم تو وہ کہنے سے قاصِر
بس خُدا ہی پھر تو ناصِر
رَب کرے وہ ہو نہ ظاہِر
وہ ہو جس کے رَدْ کی خاطِر
رات دِن وَقْفِ دُعا ہو
جَل مَریں ناشاد بندے
کَب رہیں دِل شاد بندے
پھر رہیں آباد بندے؟
مَرْ مِٹیں برباد بندے
خانہ آباد آگ کا ہو
ہو بَیاں کیسے یہ مَضْمُون
ہو نہ جاؤں میں ہی مَطْعُون
راز اس میں یہ ہے مَکْنُون
شاد ہو اِبْلِیسِ مَلْعُون
غم کِسے اِس قَہْر کا ہو
غَم تُمہیں ہو ،کچھ کرو سَو
بھولنا تو اَب بھلا دو
ورنہ غَم جاناں تُمہیں ہو
تُم کو ہو وَاللّٰہ تُم کو
جان و دِل تُم پر فِدا ہو
تُم کو ہر دَم حَق ہنسائے
نِعْمتیں تُم پر لُٹائے
ناز بھی خود حَق اُٹھائے
تُم کو غَم سے حَق بچائے
غَم عَدُو کو جان گُزَا ہو
نُور سے ہر سّو تَشَرُّق
ہر خُوشی پر ہے تَفَوُّق
کَب یہاں غَم کا تَحَقُّق
تُم سے غَم کو کیا تَعَلُّق
بے کَسوں کے غَم زُدا ہو
سَب خَزَانے تُم سنبھالو
شَانِ رَحْمَت رَب سے پالو
نار سے اُمَّتْ بَچالو
وہ عَطَا دے ، تُم عَطَا لو
وہ وہی چاہے جو چاہو
رَب کے تو ہیں تُم سے وَعْدے
ہوں تمہارے روز چَرْچے
حَشْر میں ظاہِر ہوں رُتْبے
حَق دُرُودیں تُم پہ بھیجے
تُم مُدام اس کو سرَاہو
ہے خُدا تیرا اے آقا
اور ہمارا ہے تُو شاہا
بَر تُو او بارَدْ تُو بر ما
بَر تُو او پاشَدْ تُو بَر ما
تا اَبَد یہ سِلْسِلَہ ہو
بات اب رضوی کی سُنیے
اب اِسے بَرْدوں میں لِکھیے
اور اِسے اپنا ہی کَہیے
کیوں رضا مُشْکِل سے ڈَر یے
جب نَبی مّشْکِل کُشَا ہو
----------------------------------
تضمین نگار:- ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی
---------------------------------
20 ربیع الاول شریف 1448 ھ / 2 ستمبر 2026 ء
شبِ جمعرات
رات 8 بج کر 48 منٹ

0
5