سینہ جلے تو کیا، کوئی چارہ کرے بھی کیوں
چپ رہ کے زخمِ دل کا مداوا کرے بھی کیوں
ہر درد سے نجات کی خواہش غلط نہیں
لیکن یہ زخمِ دل کوئی گہرا کرے بھی کیوں
رشتے تو ہیں فقط یہ سرابوں کی صورتیں
ان خوابوں کا یقین دل اپنا کرے بھی کیوں
جینے کے جو سفر میں سو دفعہ ہو لُٹ چکا
اب خود سے اعتماد کا سودا کرے بھی کیوں
اک آئینہ بھی ٹوٹا پرائے گناہ میں
اب اپنے آپ کو ہی پرایا کرے بھی کیوں
آنسو بہا کے دل کو یوں ہلکا تو کر لیا
لیکن یہ غم دوبارہ سنبھالا کرے بھی کیوں
اب اس گلی میں آ کے صدا دی نہیں کبھی
دل پھر اُسی فریب سے بہلا کرے بھی کیوں
جب خواب ہی تمام مرے خاک ہو چکے
پھر دل یہ ان کی راکھ کو چھانا کرے بھی کیوں
جب خود نہ اپنی ذات کو پہچان ہی سکا
یہ دل کسی کی یاد کا چرچا کرے بھی کیوں
اک شخص جس نے خواب سجا کر مٹا دیے
اب وہ دوبارہ خواب گوارا کرے بھی کیوں
شہروں میں سو چراغ بھی جلتے ہیں تو کیا
دل بے چراغ ہو تو اجالا کرے بھی کیوں
حالات ہوں خراب یہ خواہش رہی مری
اب ان کی سازشوں کا تماشا کرے بھی کیوں
میں پاس تھا تو بولتا کچھ وہ نہیں تھا جب
میں کھو گیا ہوں تو وہ پکارا کرے بھی کیوں
ترکِ تعلقات کا رستہ ہی ٹھیک ہے
میں نامراد ہوں کوئی اپنا کرے بھی کیوں
جا ہی چکے ہیں سب وہ جو قسمت میں تھے مری
اب ان کو پھر خیال میں لایا کرے بھی کیوں
اے شخص! خود سے جنگ تو لازم تھی ایک دن
اب تم کو روکنے کا تقاضا کرے بھی کیوں
جب دل ہی مانتا نہیں دنیا کے فیصلے
پھر اپنے آپ کو یہ ستایا کرے بھی کیوں
جس کو سدا نہ غم کے سوا ہی ملا ہو کچھ
سو زخموں کا حساب وہ رکھا کرے بھی کیوں
اب دل کا آئینہ ہے دھواں دار سا کہ یوں
اس آئینے کو پھر سے سجایا کرے بھی کیوں
جو خواب ٹوٹ جاتے ہیں سو ٹوٹ جاتے ہیں
اب ان کے ٹوٹنے کا تماشا کرے بھی کیوں
ہے یونہی خامشی میں یہ میرا سفر تو پھر
اب گفتگو کا شور اُٹھایا کرے بھی کیوں
اک آگ تھی جو خود میں جلائے رکھی اور اب
جو راکھ ہو چکا ہوں تو جلا کرے بھی کیوں
احساس کی فصیل پہ سایہ سا ہے مگر
خود اپنے دل کو دُکھ سے بچایا کرے بھی کیوں
آنکھوں میں ہیں غبار سی یادیں پہ وہ حسیں
ان خوابوں کی وہ دھند میں ٹھہرا کرے بھی کیوں
اب ہر نظر میں عکس ہے، چہرہ نہیں کوئی
تو آئینوں کا عکس دکھایا کرے بھی کیوں
ہر ایک میرے خواب کی تعبیر جل چکی
اب راکھ کا دیا ہے اجالا کرے بھی کیوں
جو اس کے حرف، دل پہ مرے کندہ ہوں نہیں
ایسا سخن وہ ہونٹوں پہ لایا کرے بھی کیوں
مجھ کو بے دخل کر گیا دل سے اگر کوئی
اب ادنیٰ ادنیٰ کہتا ہے چرچا کرے بھی کیوں
میرے ہیں رقص میں قدم انجام کی طرف
تو منزلوں کا ذکر سنایا کرے بھی کیوں
اک شخص اب بھی ذکرِ وفا کر رہا ہے جو
بس خامشی سے عینؔ وہ بیٹھا کرے بھی کیوں

46