۱. بقائے حق
دشمنِ دیں سرنگوں ہے اب اپنے ہی ستم سے
حق بچا ہے، سر کٹا ہے، پر جھکا نہ تیغ و سَم سے
۲. پاسبانیِ دین
جاں کا سودا کر لیا ہے راہِ حق میں شاہ نے
دینِ احمدؐ بچ گیا ہے آپؐ کے نقشِ قدم سے
۳. جلالِ امامت
تیر گزرے ہیں گلے سے، ہاتھ بھی زخمی ہوئے
مٹ گیا باطل ہمیشہ، سیدِ والا حشم سے
۴. سندِ معصومیت
خونِ اصغرؓ دے رہا ہے آج بھی یہ اک گواہی
نورِ حق مٹتا نہیں ہے، کفر کے لشکرِ عَدَم سے
۵. معجزۂ نوکِ سناں
نیزے پر بھی وہ تلاوت کا سماں روشن رہا
خار کھائے ہیں یزیدی، نطقِ شاہِ محترم سے
۶. زوالِ بوالہوس
یاد کر اے بوالہوس! تو اپنے اس قصرِ دنا کو
خوار و رسوا تو ہوا ہے، حشر تک اپنے رقم سے
۷. حیاتِ جاوداں
کربلا کی خاک میں اب تک چھپی ہے وہ تڑپ
عشق کا نغمہ جواں ہے، خونِ ناحق کے بہم سے
۸. ثباتِ اہلِ ایماں
ظلم کے ایوان لرزے دیکھ کر صبر و وفا
اہلِ ایماں کب جھکے ہیں، نیزہ و تیرِ ستم سے
۹. سوزِ خاکی
آج بھی خاکیؔ دلوں کو جوڑتی ہے یہ تڑپ
کربلا کی یاد تازہ، ہے جو لبریزِ اَلَم سے

0
2