دشمنِ دیں سرنگوں ہے اب اپنے ہی ستم سے
حق بچا ہے، سر کٹا ہے، پر جھکا نہ تیغ و سَم سے
جاں کا سودا کر لیا ہے راہِ حق میں شاہ نے
دینِ احمدؐ بچ گیا ہے آپؐ کے نقشِ قدم سے
تیر گزرے ہیں گلے سے، ہاتھ بھی زخمی ہوئے
مٹ گیا باطل ہمیشہ، سیدِ والا حشم سے
خونِ اصغرؓ دے رہا ہے آج بھی یہ ہی گواہی
نورِ حق مٹتا نہیں ہے، کفر کے لشکرِ عَدَم سے
نیزے پر بھی وہ تلاوت کا سماں روشن رہا
خار کھائے ہیں یزیدی، نطقِ شاہِ محترم سے
یاد کر اے بوالہوس! تو اپنے اس قصرِ دنا کو
خوار و رسوا تو ہوا ہے، حشر تک اپنے رقم سے
کربلا کی خاک میں اب تک چھپی ہے وہ تڑپ
عشق کا نغمہ جواں ہے، خونِ ناحق کے بہم سے
ظلم کے ایوان لرزے دیکھ کر صبر و وفا
اہلِ ایماں کب جھکے ہیں، نیزہ و تیرِ ستم سے
آج بھی خاکیؔ دلوں کو جوڑتی ہے یہ تڑپ
کربلا کی یاد تازہ، ہے جو لبریزِ اَلَم سے

0
7