| (حصہ اول) |
| تضمین : کعبہ کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں درود |
| کلام اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز |
| --------------------------- |
| مَظْہرِ نورِ خدا تم پہ کروڑوں درود |
| چَشْمَۂِ آبِ ہُدٰی تم پہ کروڑوں درود |
| نازِشِ عَرْشِ عُلٰی تم پہ کروڑوں درود |
| کَعبہ کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں درود |
| طَیْبَہ کے شَمْسُ الضُّحٰی تم پہ کروڑوں درود |
| مَہْبَطِ وَحْیِ خُدا تم پہ کروڑوں درود |
| حامِلِ رَمْزِ دَنٰی تم پہ کروڑوں درود |
| خاتِِمِ دِورِ طَغٰی تم پہ کروڑوں درود |
| شافعِ رَوزِ جَزا تم پہ کروڑوں درود |
| دَافعِ جُْملہ بلا تم پہ کروڑوں درود |
| نُورِ رُخِ اَتقیا تم پہ کروڑوں درود |
| تاجِ سَرِ اَزْکیا تم پہ کروڑوں درود |
| شاہِ شِہِ اَولیا تم پہ کروڑوں درود |
| جان و دِلِ اَصْفیا تم پہ کروڑوں درود |
| آب و گِلِ اَنبیا تم پہ کروڑوں درود |
| ہے وہ مرا آسرا ، جس کی خُدا مانتا |
| جو بھی وہ ہے چاہتا ،ہے وہی رب کی رضا |
| رب کی ہے اس پر عَطا ، قبضے میں اَرْضُ و سَما |
| لائیں تو یہ دُوسرا ، دَوسَرا جس کو ملا |
| کُوشکِ عَرْشُ و دنٰی تم پہ کروڑوں درود |
| اور کوئی راز کیا ، تم سے رہا ہو چُھپا |
| اَرْضُ و سَما سے وَرا ، سب ہے نَظَر میں بَسا |
| تم سے تو ہے اِبْتِدا ، تم پہ ہی ہے اِنْتِہَا |
| اور کوئی غیب کیا ، تم سے نِہاں ہو بھلا |
| جب نہ خُدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود |
| نائبِ اعلیٰ بنا، خالقِ تدبیر کا |
| باِلیََْقِیں عالِم ہوا ، صفحۂِ تقدیر کا |
| ہر سو اُجالا ہوا ، اس کی ہی تنویر کا |
| طور پہ جو شَمْع تھا ، چاند تھا ساعیر کا |
| نیِّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود |
| ہِجْر میں اب تک جَلا ، ضَبْط نہ اب تو رَہا |
| دِل سے یہی ہے دُعا، اب نہ رہے فاصلہ |
| در پہ بُلا کر گدا ، کو کرو جلوہ عَطا |
| دِل کرو ٹھنڈا مِرا ، وہ کَفِ پا چاند سا |
| سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود |
| جُود و کرم کے سَحاب سے کرو تم فیض یاب |
| ہو جہاں میں اِنقِلاب ، حُسْن کرو بے نِقاب |
| نَجْم و قَمَر آفتاب ، آگے تمہارے حَباب |
| ذات ہوئی اِنْتِخَاب وَصْف ہوئے لاجَوَاب |
| نام ہوا مُصْطِفیٰ تم پہ کروڑوں درود |
| شان تمہاری عَجَب جو کہو ، ہو وہ بَرَب |
| اہلِ عَجَم یا عَرِب ، سب کو تمہاری طَلَب |
| سن کے تمہارا نَسَب ، سب جھکیں اہلِ حَسَب |
| غایت و عِلَّت سَبَب بہرِ جہاں تم ہو سب |
| تم سے بَنا تم بِنا تم پہ کروڑوں درود |
| تم سے بَنی سب کی بات ، تم پہ فِدا کائنات |
| تم سے ہوئے مُعْجِزَات ، سب پہ کھُلے مُضْمَرَات |
| مٹ گئے اہلِ مَنَات ، کفر سے ملی نَجَات |
| تم سے جِہاں کی حَیات، تم سے جہاں کا ثَبات |
| اَصْل سے ہے ظِل بندھا ، تم پہ کروڑوں درود |
| ہم زَماں سارے ہوئے شَخْصِ تَوَنْگَر کے دوست |
| ہیں یہاں پر تو سبھی وقتِ مُقَرَّر کے دوست |
| کون بنیں گے یہاں عَبْدِ مُصَغَّر کے دوست |
| مَغٔز ہو تم اور پوست اور ہیں باہر کے دوست |
| تم ہو دَرُونِ سَرَا تم پہ کروڑوں درود |
| آکے بچالو ہمیں کہ چار سُو ہیں چور غوث! |
| آس لگی ہے تمہیں پہ ہم تو ہیں کمزور غوث! |
| کردو مَدِد تم! کہ چھوڑ دی تمہیں پر ڈور غوث! |
| کیا ہیں جو بے حد ہیں لوث ، تم تو ہو غیث اور غوث |
| چھینٹے میں ہوگا بھلا تم پہ کروڑوں درود |
| عَرْض کریں نُوحُ و شیث تم سے سبھی "اَسْتَغِىْث" |
| ہم بھی ہوئے مُسْتَغِث ، از پَئے شَیٔخُ الْحَدیث |
| ہم ہیں بہت ہی رَثِیث ، دور کرو سب کَرِیث |
| تم ہو حَفِیْظُ و مُغِیْث کیا ہے وہ دُشْمَن خَبِیْث |
| تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود |
| ہے جہاں مِثْلِ زُجاج ، تم ہوئے اس میں سِراج |
| تم سے ہی پاتے ہیں آج ، روشنی کا اِمْتِزاج |
| تم نے ہیں بدلے رِوَاج ، بن گئے غم اِبْتِہاج |
| وہ شِبِ مِعْراج راج ، وہ صَفِ مَحْشَر کا تاج |
| کوئی بھی ایسا ہوا تم پہ کروڑوں درود |
| صُلْتَ فَلَاحَ السِّلَاحْ قُمْتَ فَصَارَ النَّجَاحُْ |
| جِئْتَ فَدَامَ الصَّبَاحْ غِبْتَ فَغَاب الْمِرَاحْ |
| صِرْتَ مَرَامَ البِطَاحْ اَنْتَ مُرَادُ الْفِصَاحْ |
| لُحْتَ فَلَاحَ الْفَلَاحْ رُحْتَ فَرَاحَ الٔمَرَاحْ |
| عُدْ لِیَعُوْدَ الْھَنَا تم پہ کروڑوں درود |
| تم پہ کتابِ صَرِیح اُتْری ، تمہاری مَدِیح |
| کھول دو دَسْتِ مَلِیْح ، کون ہے تم سا سَمِیْح؟ |
| دیکھ کے چہرہ صَبِیْح ، گنگ رہے سب فَصِیْح |
| جان و جَہَانِ مَسِیْ داد کہ دل ہے جَرِیْح |
| نَبْصِیں چھُٹِیں دَم چَلا تم پہ کروڑوں درود |
| چاہیں نہ ہم تم سے کاخ ، دو ہمیں بس اِک مُنَاخ |
| ہم پہ کَرَم ہو فَراخ ، سُن لو ہماری صُرَاخ |
| غَم سے ہے دِل میں سَلاخ ، پھَٹ رہے ہیں یہ سِماخ |
| اف وہ رہِ سنگلاخ آہ یہ پا شاخ شاخ |
| اے مرے مُشْکِل کُشَا تم پہ کروڑوں درود |
| ہیں جو یَہُود و ہُنُود ، توڑتے ہیں سب حُدُود |
| کر دو مَدَد ! یہ حُسُود بھی مٹیں مثلِ ثَمُود |
| اب تو ہو آقا شُہُود، نور سے ہو اب نُمُود |
| تم سے کھلا بابِ جُود ، تم سے ہے سب کا وُجُود |
| تم سے ہے سب کی بَقا تم پہ کروڑوں درود |
| رَسْتہ یہاں پر ہے شاذ ، سَخْت ہے سر پر مَحٔاذ |
| لوگ یہاں سب شُذَاذ ، پھر رہے ہیں سب فُذَاذ |
| بس ہے تمہاری عِیَاذ ، ، عَون کا ہو اب نَفَاذ |
| خَسْتہ ہوں اور تم مَعَاذ ، بَسْتہ ہوں اور تم مَلَاذ |
| آگے جو شَہ کی رضا تم پہ کروڑوں درود |
| مجھ کو نہیں ہے حُضُور ، اپنے عَمَل پر غُرُور |
| آسرا یومِ نُشُور تم ہی ہو ، صَدْرِ صُدُور |
| سیدھے ہوں گے سب اُمُور ، تم نے کیا جب ظُہُور |
| گرچہ ہیں بے حد قُصُور تم ہو عَفُوُّ و غَفُور |
| بَخْش دو جُرْمُ و خَطا تم پہ کروڑوں درود |
| ہِجْر سے دِل چور چور ، جلوے سے ہو کوہِ طُور |
| چاہوں نہ حُور و قُصُور ، عِشْق کا دو بس شُعُور |
| قدموں میں لا کے ضُرُور کر دو فَنا سب قُصُور |
| مِہْرِ خُدا نُور نُور دِل ہے سیہ دن ہے دور |
| شب میں کرو چاندنا تم پہ کروڑوں درود |
| تم ہو سِرَاجِ مُنِیر کر دو ادھر بھی سَویر |
| تم ہو حَبِیْبِ قَدِیر تو ہو عَطا میں نہ دیر |
| تم ہو کَرِیْمُ و ظَہِیْر ، دور ہوں قِسْمَت کے پھیر |
| تم ہو شَہِید و بَصِیر اور میں گُنَہ پر دلیر |
| کھول دو چَشْمِ حَیا تم پہ کروڑوں درود |
| ہے قَسَمِ رَہ گُزَر ، قولِ خدائے دِہَر |
| آنکھ اٹھاؤ جِدَھر ، رب کی رضا ہو اُدَھر |
| یہ لَعِیں کیا جانیں قَدَر ، تم تو ہو فَخْرِ بَشَر |
| چھینٹ تمہاری سَحَر ، چھوٹ تمہاری قَمَر |
| دِل میں رَچادو ضیا ، تم پہ کروڑوں درود |
| تم سے مِٹَا ہے فُتُور تم سے مِلَا ہے سُرُور |
| ہو قّدَموں کا ظُہُور ، تو زمیں ارضِ طُہُور |
| ہم کریں گے پُل عَبُور صدقے تمہارے ہی نور |
| تم سے خدا کا ظُہُور اس سے تمہارا ظُہُور |
| لِم ہے یہ وہ اِن ہوا تم پہ کروڑوں درود |
| خَلْق تمہاری کَنِیز ، مِلْک میں ہر ایک چِیز |
| تم ہو ہمارے مُعِیز ، سب کہیں تم کو مُجِیز |
| عَرْض کریں تم سے نِیز ، دو ہمیں عِشْقِ دَبِیز |
| بے ہُنَرُ و بے تَمِیز ،کس کو ہوئے ہیں عَزِیز |
| ایک تمہارے سِوا تم پہ کروڑوں درود |
| روزِ جَزا جب حَوَاس باختہ ہوں سب اُنَاس |
| پاس نہ ہو گا لِبَاس ، ہوگا وہاں پر ہَرَاس |
| سب بنیں گے ناشَناس ، کام کرے کب قِیَاس |
| آس ہے ناں کوئی پاس ایک تمہاری ہے آس |
| بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں درود |
| وہ تو ہمارے گُمان سے کہیں بالا ہے فَرْش |
| اَرض و سَما کی حُدُود سے بڑا اونچا ہے فَرْش |
| ہم تو کیا کہہ سکیں کہ کیسے سَما کا ہے فَرْش |
| طارمِ اعلیٰ کا عَرْش جس کَفِ پا کا ہے فَرْش |
| آنکھوں پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود |
| سارے عَوَام و خَوَاص کے لیے تم ہو مَنَاص |
| پاتے ہیں تم سے خَلَاص جتنے بھی ہیں نیک و عاص |
| جُرْم تو ہیں عام و خاص ہم سے نہ لو پر قِصَاص |
| کہنے کو ہیں عام و خاص ایک تمہی ہو خَلَاص |
| بند سے کردو رِہا تم پہ کروڑوں درود |
| جب ہو کوئی بھی مَرَض تم ہو طَبِیبِ حَرَض |
| جو ہے یہاں پر عَرَض ، تم سے ملا بے عِوَض |
| وَصْل کی ہے بس غَرَض ، ہجر سے دل ہے رَمَض |
| تم ہو شفائے مَرَض خلقِ خدا خود غَرَض |
| خَلْق کی حاجت بھی کیا تم پہ کروڑوں درود |
| تم پہ ہمارا مَنَاط ، ہے تمہی سے اِنْبِسَاط |
| کب ہے کہیں اِرْتِبَاط، اور نہیں اِخٔتِلَاط |
| غم نے بنایا مُحَاط ، حوصلے میں اِنْحِطَاط |
| آہ وہ راہِ صِرَاط ، بندوں کی کتنی بِسَاط |
| المدد اے رَہْنُمَا ، تم پہ کروڑوں درود |
| خَتْم تمہارے ظُہُور سے ہوا شورِ عُکاظ |
| شرم نہ دل کو ہوئی یہ تو رہا پھر غِلاظ |
| کاش تمہارے اُصول کا اسے رہتا لِحَاظ |
| بے ادب و بد لِحَاظ کر نہ سکا کچھ حِفَاظ |
| عَفْو پہ بھولا رہا، تم پہ کروڑوں درود |
| تضمین نگار:- |
| ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی |
| 13 ربیع الاول شریف 1448ھ / 27 اگست 2026 ء بروز جمعرات شام 6 بج کر 9 منٹ |
معلومات