| چاہیے بندگی خودی کے لئے |
| سر کروں خم مگر اسی کے لیئے |
| ایک سورج مگر ہیں کرنیں ہزار |
| ہے تو واحد مگر سبھی کے لیئے |
| حسن تو قابلِ ستائش ہے |
| رب کا مشہود زندگی کے لیئے |
| فکرِ جاں، فکرِ جہاں اور پھِرعشق |
| اف یہ تقسیم زندگی کے لیئے |
| کاش یہ دِل قرار پا جائے |
| اس کی دھڑکن ہو بس اسی کے لیئے |
| اے خدا رحم کر تو حیدر پر |
| شعر لکھتا ہے پھر کسی کے لیئے |
معلومات