اگرچہ وہ تلخ آفریں ہے، تو تلخیِ ایّام سے بچ
وہ سختی اگر کلام میں لائے، تو سخت کلام سے بچ
وہ ضدی ہے، اپنی ضد پہ اڑا ہے، تو اپنی ضد کو چھوڑ دے
وہ خود ہی بکھر جائے گا اک دن، تو اس کے انجام سے بچ
اک جھلک اس کے آنچل تلے، سندر مکھ کی دیکھی جو
حدّتِ دُھوپ میں جی رہا ہے، تو لذتِ حرام سے بچ
چاند نکلا ہے، نُوری ردا ہے، چمک بکھری زمین پہ
چہرہ غرور میں ہے گُم، میاں! نظرِ خام سے بچ
وہ جو دھوکہ کرے بار بار، رُوح کو زخم دیتا ہے
عشق اگر سچا ہے تیرا، تو جھوٹ کے ہر الزام سے بچ
دوستیوں میں وفا نہ ہو، تو رشتے ہوا کی طرح ہیں
اہلِ صفا کے قریب رہ، دو رُخیوں کے دام سے بچ
زندگی اب گمنام نہیں، عمل ہی تری پہچان ہے
وقتِ رواں ہے، چوٹ نہ کھا، چلتے رہو، قیام سے بچ
میری جاں! باتیں اور بہت، پر سُننا چاہو کبھی اگر
صبر کرو، لب سی رکھو، خواہش کی حسرتِ جام سے بچ
نہ میں سوداگرِ دل ہوں، نہ چاہتا ہوں یہ کاروبار
خاکی! ہو شہرتِ عام اگر، تو اپنی قدرِ عام سے بچ

0
6