جو مانگی ہے تو نے وہی میں دعا ہوں
میں تیرے لئے اب ضروری بنا ہوں
یہی ایک خوبی ہے مجھ میں نرالی
میں سارے زمانے سے بالکل جدا ہوں
ہوئی شام اب لوٹ آ جا اے اختر
تری راہ تکتے میں کب سے کھڑا ہوں
اے منصف سزا کی ضرورت نہیں ہے
میں اپنے گناہوں کی خود ہی سزا ہوں
مجھے زرد ہونے کا خطرہ نہیں ہے
میں پرکھوں کی شاخوں ، جڑوں سے جڑا ہوں
ملاقات کا ایک موقع عطا کر
میں تیرے محلے میں عاشق نیا ہوں
مجھے اپنی باہوں کے گھیرے میں لے لو
میں تیرے غموں کی انوکھی دوا ہوں
قدم ہیں کے عالم ؔ کے ٹکتے نہیں ہیں
غضب ہے کہ کیا تھا میں کیا ہو گیا ہوں
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری

0
4