مے میسر نہیں اب شام سے مے خانوں میں
پھرتے ہیں رِند لیئے اشک ہی پیمانوں میں
ہم اسی لے میں ہیں رقصاں گو زمانے بیتے
ساز سب ٹوٹ چکے گونج ہےبس کانوںمیں
میں نے کھا لی تھی قسم رہنے کی مدہوش کبھی
تیری آواز کا رس ایسا گھُلا کانوں میں !!!!!!!!
فانی ہے دُنیا مگر دِل کو بھی یہ کھینچے ہے
نغمہ و گُل کے دفاتر ہوں جوُں ویرانوں میں
شیر و شاہین کے پنجوں کی اسیری کے سبب
دیکھا مظلوُم نہ عنواں کبھی افسانوں میں !!!
مجھ سے کیا پوُچھتے ہو، تم ہی بتائو حیدر
لوگ کیوُں ڈھونڈیں سکوُں جا کے بیابانوں میں

0
38