جس صحبت میں رہتا ہے انسان
اس جیسا پھر ہو جاتا ہے انسان
بارش ہو ممکن ہے برسے گا ابر
پانی میں دیکھو بہتا ہے انسان
کِن نقش کی جانب ہے یہ انسان
جن رستو میں گم ہوتا ہے انسان
تھوڑی سی شہرت کے بعد انسان
شہرت کے چرچے کرتا ہے انسان
سب زندہ کو کرتے ہیں نظر بند
پھر اسکو یہ دفناتا ہے انسان
یہ عشق اتنا لازم ہے ذیشان
کہ معرفت کو پاتا ہے انسان

17