جلوہ دِکھلا کے سراپائی کا
دے گیا پھِر وہ پتہ بھائی کا
کون جانے بنے گا کل کیا کیا
سیکھا ہے فن وہ گُل کِھلائی کا
کُشتوں کے پُشتے وہ نہیں جانے
اُس کو بس شوق مُسکرائی کا
لے اُڑا اُس کے سامنے سے کوئی
تھا پیالہ جو رس ملائی کا
گھوُرے ہے آسمان کو اَب وہ
گھونٹ چکھا جو بے وفائی کا
دانت دِکھلا کے آج گُزرا ہے
کیسا یہ بھید روُنمائی کا
چُپ رہو اَب تو خیر ہے حیدر
اُلٹا مطلب لے وہ بھلائی کا

0
4