| مانگے انسان شفا، جو رکھی رب نے دوا میں |
| پیر کہتا ہے کہ مجھ سے ہی ملے گی نوا میں |
| گاؤں کی یاد ستاتی ہے، میں جب لوٹتا ہوں |
| دل مرا لگتا نہیں، شہر کی آب و ہوا میں |
| جنہیں آنا تھا خبر گیری کو میری، وہ آئے |
| جو نہ آئے، کوئی شکوہ نہیں کرتا دعا میں |
| شب کو جب لوٹتے ہیں، اب یہ پرندے بے چارے |
| یہ نہیں کرتے سفر اب کسی کی بد دعا میں |
| تجربہ مانگتی ہے یوں تو, مگر زندگی کو |
| صبر آ جاتا ہے ذیشان ہمیشہ سزا میں |
معلومات