| ابر جب وادیوں پے چھائے تھے |
| چاند پر خامشی کے سائے تھے |
| اس چمن کے تھے جتنے قصے وہ |
| تتلوں نے بھنورے کو سنائے تھے |
| دور اس گلی سے نکل آئے |
| چوٹ کھا کر بھی مسکرائے تھے |
| جانے پہچانے چہرے تھے وہ سب |
| سر جھکائے، نظر چرائے تھے |
| وحشتیں بکھریں ہیں ہر جانب |
| موڑ راہوں میں کتنے آئے تھے |
| پیار کے گیت ہم نے گائے تھے |
| سننے آئے مگر پرائے تھے |
| زندہ رہنا بھی ہم نے سیکھ لیا |
| وقت نے فن کئی سکھائے تھے |
معلومات