ابر جب وادیوں پے چھائے تھے
چاند پر خامشی کے سائے تھے
اس  چمن کے تھے  جتنے قصے وہ
تتلوں نے بھنورے کو سنائے تھے
دور اس گلی سے نکل آئے
چوٹ کھا کر بھی مسکرائے تھے
جانے پہچانے چہرے تھے وہ سب
سر جھکائے، نظر چرائے تھے
وحشتیں بکھریں ہیں ہر  جانب
 موڑ راہوں میں کتنے  آئے تھے
پیار کے گیت ہم نے گائے تھے
 سننے آئے  مگر  پرائے تھے
زندہ رہنا بھی ہم نے سیکھ لیا
وقت نے فن کئی سکھائے تھے

0
65