روٹی اور جِنس
ایک نظم:
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
تختہء مشق پر کھڑے ہو کر
حل تو کر لیں ہیں چند مساواتیں
روٹی اور جِنس کا مگر مسئلہ
تختء مشق پر نہیں آتا
روٹی نہ پیٹ میں ہو تو میں تو
مشق کوئی بھی کر نہ پاؤں گا
پیچھے جو تختہ بچ گیا ہے اُسے
جا کے منڈی میں بیچ اؤں گا
اور پھِر جنس بھی تو ہے لازِم
نہ ملے گی تو پاگلوں کی طرح
چھوٹے بچوں کو جا بھنبھوڑوُں گا
اور سزائیں بھی کیا کریں گی بھلا
روٹی اور جِنس تو ضرورت ہے
حل نہ سوچا جو تُم نے کُچھ اِس کا
مشقیں، نہ تختے، کام آئیں گے
حل نہ ہوں گی کوئی مُساواتیں
آخری ہو گا پھِر میرا نمبر
فیل کا ٹھپہ ہو گا ماتھے پر
تختہءمشق منُہ چِڑائے گا
سارا اِلزام مُجھ پر آئے گا
کوئی ہمدرد بھی نہ پاؤں گا
سب کہیں گے مُجھے یہ ہے ناکام
ٹختہءمشق بھی کِتابیں بھی
سب اُٹھائیں گے مُجھ پر ہی اُنگلی
مُنہ چھپاتا پھِروُں گا میں سب سے
اور سوچوُں گا یہ ہی میں خود بھی
ہاں میں ناکام رہ گیا یارو
ہاں میں ناکام رہ گیا لوگو۔

0
1