| یہ مقدر کبھی مجھ سے روٹھا نہیں |
| رب کی رحمت کا دامن بھی چھوٹا نہیں |
| سنگِ رہ نے تراشا مری زیست کو |
| پائے ہمت کا پیمان ٹوٹا نہیں |
| اہلِ دنیا نے لوٹا ہے ظاہر مرا |
| گنجِ ایماں تو سینے سے لوٹا نہیں |
| رزق کا غم ستائے مجھے کس لیے |
| چشمۂ فیضِ باری تو سوکھا نہیں |
| بک گئے ہوں گے دربار میں اہلِ فن |
| مردِ درویش کا بول جھوٹا نہیں |
| نانِ جو پر بسر ہم نے کر لی مگر |
| طوقِ باطل گلے میں تو ڈالا نہیں |
| عزمِ محکم رہا راہِ توحید میں |
| شوقِ سجدہ کسی در پہ بیچا نہیں |
| تیرگی جتنی چاہے ستم ڈھائے پر |
| صبحِ امید کا نور ٹوٹا نہیں |
| صبر و شکر و رضا رب نے بخشا مجھے |
| حافظؔ اب دل کا شیشہ یہ ٹوٹا نہیں |
معلومات