عمر بھر مٹی کی خوشبو سے معطر ہم رہے
شہر میں رہ کر بھی اپنے گھر کے اندر ہم رہے
​چاند تاروں کی تمنا میں بھٹکتی تھی نظر
دھوپ کی صورت مگر دھرتی کے سر پر ہم رہے
​رزقِ خاکِ تیرہ سے پھوٹے ہیں جتنے رنگ و بو
ان سبھی رنگوں کا حاصل ایک منظر ہم رہے
​وقت کے تیشے نے کاٹا ہے ہمیں کس چاؤ سے
جادۂِ ہستی میں جیسے کوئی پتھر ہم رہے
​چاندنی راتوں میں چمکی ہے ہماری سادگی
تیرگیِ دہر میں ضو کا سمندر ہم رہے
چاند تاروں کی تمنّا دل میں روشن ہی رہی
خاک کی آغوش میں لیکن برابر ہم رہے
فکر کی سچّائیوں کا دامن اپنے ساتھ تھا
خالدؔ اپنی ذات میں اک سایہ گستر ہم رہے

0
7