خاک کی صورت ہے لیکن کیمیا ہے زندگی
بندگی میں ڈھل سکے تو معجزہ ہے زندگی
​وقت کی لہروں پہ نقشِ آب ہیں سب خواہشیں
بحر کی گہرائی میں اک بلبلا ہے زندگی
​عقل کہتی ہے کہ ہے بس اک سفر بے سمت و راہ
عشق کہتا ہے کہ رب کا راستہ ہے زندگی
​خار و خس کے ڈھیر میں ڈھونڈو نہ اپنا آشیاں
مرغِ جاں کے واسطے اک قیدِ پا ہے زندگی
​خوشنما پردوں میں چھپ کر جینا کتنا سہل تھا
بے حجابانہ مگر اک کربلا ہے زندگی
سر پہ سورج ہو تو اپنی سمت چلنا سیکھ لے
اپنے قدموں کے تلے ہی راستہ ہے زندگی
بجھ نہ جائے تند ہوا میں چراغِ آرزو
تیرگی میں روشنی کا حوصلہ ہے زندگی
​لوحِ ہستی پر تحیر سے لکھا ہے خاک نے
موت کی آغوش میں اک التجا ہے زندگی

0
5