یہ دہر کی گرمی، یہ تن کی جلن ہے
کہ ہر زخم میں اک نئی انجمن ہے
یہی راہ الفت، یہی کارواں ہے
جہاں ہر قدم اک نیا امتحان ہے
پرندے بھی پگھلے تپش کے سفر میں
مگر دل کی دھڑکن میں اک اک نواں ہے
تم اپنا سراپا، صدا، خوشبوؤں کو
مرے نام کرنا ہی چاہو تو کیوں ہو؟
ہمارے رخسار ابھی تک جلے ہیں
سفر کے یہ لمحے ابھی تک تلے ہیں
مگر جب بدن کی رگوں میں چراغاں
ہوا کی صدا بن گئی اک درخشاں
تو پھر ایک دنیا نئے رنگ میں ہے
محبت کا جادو نئے ڈھنگ میں ہے

0
2