جی میں آتا ہے کہ اب خود سے جھگڑ لوں تھوڑا
تیری یادوں کے جزیرے میں بکھر لوں تھوڑا
​تو جو مل جائے تو شکوے بھی ہوں، باتیں بھی ہوں
تیری زلفوں کی طرح میں بھی سنور لوں تھوڑا
​آئینے سے تو ہمیشہ ہی ملاقات رہی
آج میں تیری نگاہوں میں اتر لوں تھوڑا
​مجھ کو منظور ہے اس پیار میں رسوا ہونا
تیری گلیوں میں تماشہ کوئی کر لوں تھوڑا
​خالدؔ اک عمر کی دوری ہے، بہت فاصلہ ہے
تیری یادوں کی ہی بستی میں ٹھہر لوں تھوڑا

0
2