| اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| غیروں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| دھوکے میں ترے نا جا نے میں |
| کتنوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| چپ چپ ہوں اس بت کے آگے |
| اوروں سے باتیں کرلے تا ہو ں |
| آتی ہے تیری یاد اگر |
| پھولوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| جب تیری آنکھیں یاد آئیں |
| جھیلوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| کہنے کو پاس نہیں کچھ بھی |
| لوگوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| جب کھانا ہو اک زخم نیا |
| اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| ہو پاس نہ گر تو چاند مرے |
| کرنوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| جب بھی جاؤں کہسا روں پر |
| جھرنوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| تنہا ہوں پر اتنا بھی نہیں |
| دیواروں سے باتیں کرلے تا ہوں |
| گھر کر طوفانوں میں قاسم |
| موجوں سے باتیں کرلے تا ہوں |
معلومات