اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
غیروں سے باتیں کرلے تا ہوں
دھوکے میں ترے نا جا نے میں
کتنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
چپ چپ ہوں اس بت کے آگے
اوروں سے باتیں کرلے تا ہو ں
آتی ہے تیری یاد اگر
پھولوں سے باتیں کرلے تا ہوں
جب تیری آنکھیں یاد آئیں
جھیلوں سے باتیں کرلے تا ہوں
کہنے کو پاس نہیں کچھ بھی
لوگوں سے باتیں کرلے تا ہوں
جب کھانا ہو اک زخم نیا
اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
ہو پاس نہ گر تو چاند مرے
کرنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
جب بھی جاؤں کہسا روں پر
جھرنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
تنہا ہوں پر اتنا بھی نہیں
دیواروں سے باتیں کرلے تا ہوں
گھر کر طوفانوں میں قاسم
موجوں سے باتیں کرلے تا ہوں

12